Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page8 of 10
MCQ 71غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
جنگ احد میں کس صحابی نے آنحضرت ﷺ سے اپنے کافر باپ کے خلاف لڑنے کی اجازت مانگی لیکن آپ ﷺ نے اجازت نہ دی؟
حضرت ابودجانہؓ
حضرت ابوحذیفہؓ
حضرت ابوبردہؓ
کوئی نہیں
Correct answerB — حضرت ابوحذیفہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت ابوحذیفہؓ۔ اس سوال کو صرف ایک نام یا عدد کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ غزوے کے سبب، زمانی ترتیب، اہم شخصیات اور نتیجے کے ساتھ جوڑنا زیادہ مفید ہے۔ غزوۂ اُحد 3 ہجری میں بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے قریش کے بڑے لشکر کے ساتھ پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی، لیکن جبلِ رماۃ پر مقرر تیراندازوں میں سے بڑی تعداد کے اپنی جگہ چھوڑنے سے جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ قرآن، خصوصاً سورۂ آلِ عمران، نے اس واقعے کو اطاعتِ رسول ﷺ، نظم، صبر، دنیاوی لالچ سے اجتناب اور اجتماعی غلطیوں سے سیکھنے کا بڑا سبق قرار دیا۔ اہم وضاحت: ابو حذیفہؓ کے والد عتبہ بن ربیعہ بدر میں مارے گئے تھے؛ اُحد میں والد کے خلاف لڑنے کی اجازت مانگنے والی موجودہ نسبت تاریخی ترتیب سے مطابقت نہیں رکھتی۔
MCQ 72ازواج مطہرات
حضرت میمونہؓ سے شادی کے وقت حضرت محمد ﷺ کی عمر مبارک کیا تھی؟
60 سال
61 سال
62 سال
63 سال
Correct answerA — 60 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 60 سال۔ حضرت میمونہ بنت حارثؓ رسول اللہ ﷺ کی آخری نکاح کی جانے والی ازواج میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے وسیع خاندانی روابط حضرت عباسؓ، ابن عباسؓ، خالد بن ولیدؓ اور دیگر معروف شخصیات سے جڑتے تھے، جس سے عرب قبائل کے درمیان سماجی رشتوں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ ازواجِ مطہرات کے نکاح صرف خاندانی واقعات نہیں تھے؛ ان میں بیواؤں کی کفالت، قبائلی مصالحت، دینی تعلیم، سماجی اصلاح اور امت کی تربیت جیسے متعدد پہلو بھی شامل تھے۔ قدیم سیرت میں عمر کے اعداد عموماً نسبی و تاریخی روایات سے اخذ ہوتے ہیں؛ مختلف تقاویم اور روایات کی وجہ سے بعض شخصیات کی صحیح عمر میں اختلاف ملتا ہے۔ اہم وضاحت: 7 ہجری میں رسول اللہ ﷺ کی عمر تقریباً 59–60 سال کے قریب تھی؛ 60 سال نصابی اندازے کے طور پر قابلِ فہم ہے۔
MCQ 73غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
غزوہ بدر ثانی کے بعد آپ ﷺ کو اطلاع ملی کہ کس قبیلے کے لوگ مسلمانوں سے لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں؟
بنی عامر
بنی غطفان
بنی بکر
بنی سعود
Correct answerB — بنی غطفان
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: بنی غطفان۔ ذی اَمَر/غطفان کی مہم میں دشمن کا بڑا اجتماع منتشر ہو گیا۔ سیرت میں ایک مشہور واقعہ بھی آتا ہے جس میں ایک مسلح شخص نے رسول اللہ ﷺ کو تنہا پا کر دھمکایا، مگر آپ ﷺ کے غیر متزلزل توکل سے مرعوب ہوا۔ بدرِ ثانی میں عملی بڑی جنگ نہیں ہوئی، لیکن مسلمانوں کا وعدے کے مقام پر پہنچنا اور قریش کا واپس ہو جانا نفسیاتی و سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کے حق میں اہم کامیابی ثابت ہوا۔ بدرِ موعد یا بدرِ ثانی اُحد کے بعد طے شدہ مقابلے کے پس منظر میں 4 ہجری میں پیش آیا۔ مسلمان بدر پہنچے اور کئی دن قیام کیا، جبکہ قریش کا لشکر مکمل مقابلے کے بغیر واپس چلا گیا۔ اس سے مسلمانوں کا اعتماد بحال ہوا اور عرب قبائل میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ اُحد کے بعد بھی مدینہ کی قوت برقرار ہے۔
MCQ 74غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
کتنے مسلمان مدینہ سے نکل کر غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے؟
10,000
20,000
30,000
40,000
Correct answerC — 30,000
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 30,000۔ تبوک شمال مغربی عرب میں شام کی سمت ایک اہم آبی و تجارتی مقام تھا۔ مہم کا مقصد ممکنہ بازنطینی/غسانی خطرے کا مقابلہ اور شمالی سرحدوں پر سیاسی قوت کا اظہار تھا۔ تبوک کے لشکر کا مشہور عدد تقریباً تیس ہزار ہے، جو اس وقت تک رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں جمع ہونے والے سب سے بڑے لشکروں میں سے تھا۔ غزوۂ تبوک 9 ہجری میں شدید گرمی، قحط، طویل سفر اور محدود وسائل کے باوجود شمالی عرب میں بازنطینی خطرے کے مقابل ایک بڑی دفاعی مہم تھی۔ تقریباً تیس ہزار مسلمان روانہ ہوئے، لیکن کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی۔ تبوک میں قیام کے دوران سرحدی قبائل اور علاقوں سے معاہدات ہوئے، اسلامی ریاست کی سیاسی رسائی شمال تک مضبوط ہوئی اور منافقین کے طرزِ عمل کو بھی نمایاں طور پر بے نقاب کیا گیا۔
MCQ 75غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
غزوہ مصطلق کے متعلق درج ذیل میں کون سا بیان درست ہے؟
اس غزوہ میں حضرت عائشہؓ سے متعلق واقعہ افک رونما ہوا
اس غزوہ کے دوران تیمم کا حکم نازل ہوا
دونوں درست ہیں
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — دونوں درست ہیں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: دونوں درست ہیں۔ اس سوال کو متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ مدنی دور کے یہ واقعات ایک دوسرے سے مسلسل سیاسی و سماجی تسلسل رکھتے ہیں۔ غزوۂ بنو مصطلق، جسے مریسیع بھی کہا جاتا ہے، مدنی دور کی ایک اہم قبائلی مہم تھی۔ اس کے بعد حضرت جویریہ بنت حارثؓ کے نکاح، قیدیوں کی وسیع رہائی، منافق عبداللہ بن اُبی کے طرزِ عمل، واقعۂ افک اور تیمم سے متعلق روایات نے اس غزوے کو عسکری کے ساتھ سماجی و شرعی اہمیت بھی دی۔ اہم وضاحت: واقعۂ افک بنو مصطلق کی واپسی سے مضبوط طور پر وابستہ ہے۔ تیمم کے نزول کا ہار والا واقعہ ایک سفر میں پیش آیا؛ اسے بنو مصطلق ہی سے جوڑنے میں سیرتی chronology پر اختلاف ہے۔
MCQ 76ازواج مطہرات
نبی پاک ﷺ نے کس سال کو عام الحزن (غم کا سال) قرار دیا؟
جس میں حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوا
جس میں حضرت ابو طالب کا انتقال ہوا
جس میں حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ دونوں کا انتقال ہوا
ان میں سے کوئی بھی نہیں
Correct answerC — جس میں حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ دونوں کا انتقال ہوا
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: جس میں حضرت ابو طالب اور حضرت خدیجہؓ دونوں کا انتقال ہوا۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ، ابتدائی اسلام کی سب سے بڑی مددگار اور حضرت فاطمہؓ سمیت آپ ﷺ کی اولاد کی والدہ تھیں۔ انہوں نے آغازِ وحی کے مشکل مرحلے میں مالی، جذباتی اور اخلاقی سہارا دیا، اس لیے سیرت میں ان کا مقام غیر معمولی ہے۔ عام الحزن مکی دور کا وہ غم انگیز سال تھا جس میں حضرت خدیجہؓ اور ابو طالب دونوں وفات پا گئے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کو گھریلو سہارا اور قبائلی تحفظ، دونوں سطحوں پر بڑا نقصان پہنچا۔ اس حقیقت کو متعلقہ ام المؤمنین کی پوری سیرت، زمانی ترتیب اور اسلامی معاشرے میں ان کے کردار کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا امتحانی تیاری کے ساتھ تصوراتی فہم بھی بہتر بناتا ہے۔
MCQ 77غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
بدر کے قریب قریش کو ابو سفیان کے قافلے کے بحفاظت نکل جانے کی خبر ملی تو کس نے کہا کہ مسلمانوں سے جنگ کی ضرورت نہیں؟
بنو عدی کے سرداروں نے
بنو زہرہ کے سرداروں نے
دونوں
کوئی نہیں
Correct answerC — دونوں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: دونوں۔ اس سوال کو صرف ایک نام یا عدد کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ غزوے کے سبب، زمانی ترتیب، اہم شخصیات اور نتیجے کے ساتھ جوڑنا زیادہ مفید ہے۔ غزوۂ بدر 2 ہجری میں اسلامی ریاستِ مدینہ اور قریشِ مکہ کے درمیان پہلا بڑا فیصلہ کن معرکہ تھا۔ مسلمان تعداد اور سازوسامان میں کم تھے، لیکن منظم قیادت، ثابت قدمی اور اللہ پر اعتماد کے ساتھ کامیاب ہوئے۔ قرآن نے اسے 'یوم الفرقان' کہا کیونکہ اس دن حق و باطل کے درمیان ایک نمایاں فرق قائم ہوا اور مدینہ کی نئی اسلامی ریاست کی سیاسی حیثیت مضبوط ہوئی۔ اہم وضاحت: بنو زہرہ کے کئی سو افراد جنگ سے واپس ہوئے جبکہ بنو عدی کا معاملہ الگ تھا؛ 'دونوں کے صرف 50 افراد' والی کلید تاریخی طور پر قابلِ نظرثانی ہے۔
MCQ 78غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
قبیلہ بنو ہوازن کی تمام شاخیں اسلام کے خلاف متحد ہو گئیں، سوائے کن کے؟
بنی کعب کے
بنی کلاب کے
A اور B دونوں
A اور B میں سے کوئی بھی نہیں
Correct answerC — A اور B دونوں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: A اور B دونوں۔ مالک بن عوف النصری نے ہوازن اور ثقیف کے بڑے اتحاد کو منظم کیا اور خاندانوں و اموال کو بھی ساتھ لانے کی حکمت عملی اپنائی، جس پر تجربہ کار درید بن صمہ نے تنقید کی کیونکہ شکست کی صورت میں پورا معاشرہ قید و نقصان کے خطرے میں آ جاتا تھا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 79غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
اس رہنما کا نام بتائیں جس نے ہوازن اور ثقیف کو اسلامی تحریک کی مخالفت کے لیے تیار کیا تھا؟
مالک ابن عوف
مالک ابن مالک
مالک ابن عتبہ
مالک ابن حلیمہ
Correct answerA — مالک ابن عوف
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: مالک ابن عوف۔ مالک بن عوف النصری نے ہوازن اور ثقیف کے بڑے اتحاد کو منظم کیا اور خاندانوں و اموال کو بھی ساتھ لانے کی حکمت عملی اپنائی، جس پر تجربہ کار درید بن صمہ نے تنقید کی کیونکہ شکست کی صورت میں پورا معاشرہ قید و نقصان کے خطرے میں آ جاتا تھا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔
MCQ 80غزوہ بدر سے غزوہ دومة الجندل تک
جنگ احد میں آنحضرت ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر مسلمان فوج منتشر ہوئی؛ آپ ﷺ کے گرد صرف کتنے صحابی رہ گئے؟
10 صحابی
13 صحابی
15 صحابی
20 صحابی
Correct answerD — 20 صحابی
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 20 صحابی۔ اس سوال کو صرف ایک نام یا عدد کے طور پر یاد کرنے کے بجائے متعلقہ غزوے کے سبب، زمانی ترتیب، اہم شخصیات اور نتیجے کے ساتھ جوڑنا زیادہ مفید ہے۔ غزوۂ اُحد 3 ہجری میں بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے قریش کے بڑے لشکر کے ساتھ پیش آیا۔ ابتدا میں مسلمانوں کو برتری حاصل ہوئی، لیکن جبلِ رماۃ پر مقرر تیراندازوں میں سے بڑی تعداد کے اپنی جگہ چھوڑنے سے جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ قرآن، خصوصاً سورۂ آلِ عمران، نے اس واقعے کو اطاعتِ رسول ﷺ، نظم، صبر، دنیاوی لالچ سے اجتناب اور اجتماعی غلطیوں سے سیکھنے کا بڑا سبق قرار دیا۔ اہم وضاحت: رسول اللہ ﷺ کے گرد باقی رہنے والوں کی تعداد مختلف مراحل میں مختلف بیان ہوئی ہے؛ '20' کو قطعی واحد عدد نہ سمجھیں۔