Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page1 of 10
MCQ 1غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
غزوہ حنین میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آٹھ ہزار مہاجر و انصار تھے؛ نو مسلموں کی تعداد کتنی تھی؟
1,000
2,000
3,000
4,000
Correct answerB — 2,000
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 2,000۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ فتح مکہ کے تقریباً دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مکہ کے قریب دو ہزار نو مسلم بھی شریک ہوئے، جس سے مجموعی تعداد تقریباً بارہ ہزار بنی۔ قرآن 9:25 میں حنین کے موقع پر کثرتِ تعداد پر عارضی اعتماد سے سبق لینے کا ذکر ہے۔ حضرت عباسؓ کی بلند آواز سے انصار اور بیعتِ رضوان کے صحابہ کو پکارا گیا۔ لشکر نے دوبارہ پلٹ کر رسول اللہ ﷺ کے گرد صفیں قائم کیں اور جنگ کا پانسہ بدل گیا۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔ اہم وضاحت: حنین کے لشکر کا مشہور مجموعہ 12,000 تھا: تقریباً 10,000 فتح مکہ والے لشکر سے اور تقریباً 2,000 نو مسلم مکی افراد۔ سوال میں '8,000 مہاجر و انصار' کی تفصیل سادہ کاری ہے۔
MCQ 2غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت جعفر بن ابی طالبؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کی شہادت کے بعد مسلمانوں کی قیادت کس شخص کو سونپی گئی؟
ثابت ابن اقرمؓ
ثابت ابن عتبہؓ
ثابت ابن حارثؓ
ثابت ابن ربیعؓ
Correct answerB — ثابت ابن عتبہؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: ثابت ابن عتبہؓ۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ حبشہ کے مہاجرین کے قائدانہ چہروں میں سے تھے۔ خیبر کے زمانے میں ان کی حبشہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے خوشی کا اظہار کیا؛ وہ بعد میں غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ موتہ کے پہلے مقررہ امیر حضرت زید بن حارثہؓ تھے، جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام، سابق منہ بولے بیٹے اور نہایت محبوب صحابی تھے۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے پرچم سنبھالے رکھا اور شدید زخموں کے ساتھ شہید ہوئے۔ روایات میں ان کے دونوں ہاتھ کٹنے کے بعد جنت میں دو پروں کی بشارت کی وجہ سے 'جعفر طیار' یا 'ذوالجناحین' کا لقب مشہور ہوا۔ غزوۂ موتہ 8 ہجری میں شمالی عرب/شام کی سرحدی فضا میں بازنطینی اثر کے تحت موجود قوتوں کے مقابل پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور قیادت کی ترتیب پہلے ہی مقرر کی: زید بن حارثہؓ، پھر جعفر بن ابی طالبؓ، پھر عبداللہ بن رواحہؓ۔ تینوں کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو منظم انداز میں واپس نکالا، جس پر انہیں 'سیف اللہ' کہا گیا۔ یہ معرکہ اسلامی ریاست کے عرب سے باہر بین الاقوامی عسکری رابطے کا اہم آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اہم وضاحت: تین مقررہ امیروں کے بعد حضرت ثابت بن اقرمؓ نے وقتی طور پر جھنڈا سنبھالا، مگر مستقل قیادت حضرت خالد بن ولیدؓ کو دی گئی۔ 'ثابت ابن عتبہ' نام بھی غلط ہے۔
MCQ 3غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
غزوہ خندق میں زخمی اور غزوہ بنو قریظہ کے بعد وفات پانے والے کس صحابی کی نماز جنازہ میں 70,000 فرشتوں نے شرکت کی؟
حضرت سعد بن معاذؓ
حضرت خلاد بن سویدؓ
حضرت منذر بن حبابؓ
کوئی نہیں
Correct answerA — حضرت سعد بن معاذؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت سعد بن معاذؓ۔ خندق کے فوراً بعد بنو قریظہ کا محاصرہ ہوا۔ ان کے بارے میں فیصلہ حضرت سعد بن معاذؓ نے دیا، جنہیں خود بنو قریظہ نے ثالث/منصف کے طور پر قبول کیا تھا۔ اس واقعے میں صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے حکم کے فہم میں اجتہاد کیا: کچھ نے نماز راستے میں وقت پر ادا کی اور کچھ نے بنو قریظہ پہنچ کر۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں فہم رکھنے والوں کو ملامت نہیں کی، جس سے نص کے فہم میں نیت و اجتہاد کا اہم اصول سامنے آتا ہے۔ حضرت سعد بن معاذؓ اوس کے سردار اور جلیل القدر انصاری صحابی تھے۔ خندق میں زخمی ہوئے اور بنو قریظہ کے فیصلے کے کچھ عرصے بعد وفات پائی؛ احادیث میں ان کی عظیم فضیلت بیان ہوئی ہے۔ بنو قریظہ کا معاملہ غزوۂ خندق کے فوراً بعد سامنے آیا۔ مدینہ کے معاہداتی نظام میں شامل اس قبیلے پر جنگ کے دوران معاہدہ توڑنے اور دشمن اتحاد سے رابطے کا الزام تھا۔ محاصرے کے بعد انہوں نے حضرت سعد بن معاذؓ کا فیصلہ قبول کیا۔ اس واقعے کو معاہدات، جنگی قانون، قبائلی سیاست اور مدینہ کی داخلی سلامتی کے پیچیدہ پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ اہم وضاحت: حضرت سعد بن معاذؓ کی فضیلت میں عرش کے ہلنے اور فرشتوں کی شرکت کی احادیث ملتی ہیں؛ '70,000 فرشتے جنازے میں' کی مخصوص روایت کو حدیثی درجے کے لحاظ سے احتیاط سے نقل کرنا چاہیے۔
MCQ 4غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
غزوہ موتہ میں شہادت کے وقت حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی عمر کتنی تھی؟
33 سال
30 سال
36 سال
40 سال
Correct answerA — 33 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 33 سال۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ حبشہ کے مہاجرین کے قائدانہ چہروں میں سے تھے۔ خیبر کے زمانے میں ان کی حبشہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے خوشی کا اظہار کیا؛ وہ بعد میں غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ موتہ موجودہ اردن کے علاقے میں واقع تھا۔ اس مہم کا پس منظر رسول اللہ ﷺ کے سفیر حارث بن عمیر الازدی کے قتل سے جوڑا جاتا ہے، جو اس زمانے کے سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے پرچم سنبھالے رکھا اور شدید زخموں کے ساتھ شہید ہوئے۔ روایات میں ان کے دونوں ہاتھ کٹنے کے بعد جنت میں دو پروں کی بشارت کی وجہ سے 'جعفر طیار' یا 'ذوالجناحین' کا لقب مشہور ہوا۔ غزوۂ موتہ 8 ہجری میں شمالی عرب/شام کی سرحدی فضا میں بازنطینی اثر کے تحت موجود قوتوں کے مقابل پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور قیادت کی ترتیب پہلے ہی مقرر کی: زید بن حارثہؓ، پھر جعفر بن ابی طالبؓ، پھر عبداللہ بن رواحہؓ۔ تینوں کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو منظم انداز میں واپس نکالا، جس پر انہیں 'سیف اللہ' کہا گیا۔ یہ معرکہ اسلامی ریاست کے عرب سے باہر بین الاقوامی عسکری رابطے کا اہم آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اہم وضاحت: حضرت جعفرؓ کی عمرِ شہادت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں؛ 33 سال قطعی متفق علیہ نہیں۔
MCQ 5غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
غزوہ تبوک میں آنحضرت ﷺ نے کس صحابی کو اہل بیت کی حفاظت کے لیے مامور کیا اور فرمایا: “کیا تم میرے لیے ویسے نہیں ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے، اگرچہ میرے بعد کوئی نبی نہیں”؟
حضرت ابوبکرؓ
حضرت عثمانؓ
حضرت عمرؓ
حضرت علیؓ
Correct answerC — حضرت عمرؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت عمرؓ۔ تبوک شمال مغربی عرب میں شام کی سمت ایک اہم آبی و تجارتی مقام تھا۔ مہم کا مقصد ممکنہ بازنطینی/غسانی خطرے کا مقابلہ اور شمالی سرحدوں پر سیاسی قوت کا اظہار تھا۔ حدیثِ منزلت میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ تمہارا میرے ساتھ وہ مقام ہے جو ہارونؑ کا موسیٰؑ کے ساتھ تھا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ بات تبوک کے موقع پر حضرت علیؓ کو مدینہ میں اہلِ خانہ و انتظام کی نگرانی کے لیے چھوڑنے کے پس منظر میں مشہور ہے۔ غزوۂ تبوک 9 ہجری میں شدید گرمی، قحط، طویل سفر اور محدود وسائل کے باوجود شمالی عرب میں بازنطینی خطرے کے مقابل ایک بڑی دفاعی مہم تھی۔ تقریباً تیس ہزار مسلمان روانہ ہوئے، لیکن کوئی بڑی جنگ نہ ہوئی۔ تبوک میں قیام کے دوران سرحدی قبائل اور علاقوں سے معاہدات ہوئے، اسلامی ریاست کی سیاسی رسائی شمال تک مضبوط ہوئی اور منافقین کے طرزِ عمل کو بھی نمایاں طور پر بے نقاب کیا گیا۔ اہم وضاحت: یہ جواب کلید غلط ہے۔ حدیثِ منزلت حضرت علیؓ کے بارے میں ہے، حضرت عمرؓ کے بارے میں نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے تبوک کے موقع پر حضرت علیؓ کو مدینہ میں چھوڑا اور فرمایا کہ تم میرے لیے ہارون کی طرح ہو، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
MCQ 6غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
غزوہ موتہ کے اس صحابی کا نام بتائیں جنہوں نے پرچم کو دائیں ہاتھ میں پکڑا، پھر بائیں ہاتھ میں، اور دونوں ہاتھ کٹنے پر اسے سینے سے لگائے رکھا؟
حضرت زید بن حارثہؓ
حضرت عبداللہ بن رواحہؓ
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — حضرت جعفر بن ابی طالبؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت جعفر بن ابی طالبؓ۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ حبشہ کے مہاجرین کے قائدانہ چہروں میں سے تھے۔ خیبر کے زمانے میں ان کی حبشہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے خوشی کا اظہار کیا؛ وہ بعد میں غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ موتہ موجودہ اردن کے علاقے میں واقع تھا۔ اس مہم کا پس منظر رسول اللہ ﷺ کے سفیر حارث بن عمیر الازدی کے قتل سے جوڑا جاتا ہے، جو اس زمانے کے سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے پرچم سنبھالے رکھا اور شدید زخموں کے ساتھ شہید ہوئے۔ روایات میں ان کے دونوں ہاتھ کٹنے کے بعد جنت میں دو پروں کی بشارت کی وجہ سے 'جعفر طیار' یا 'ذوالجناحین' کا لقب مشہور ہوا۔ غزوۂ موتہ 8 ہجری میں شمالی عرب/شام کی سرحدی فضا میں بازنطینی اثر کے تحت موجود قوتوں کے مقابل پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور قیادت کی ترتیب پہلے ہی مقرر کی: زید بن حارثہؓ، پھر جعفر بن ابی طالبؓ، پھر عبداللہ بن رواحہؓ۔ تینوں کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو منظم انداز میں واپس نکالا، جس پر انہیں 'سیف اللہ' کہا گیا۔ یہ معرکہ اسلامی ریاست کے عرب سے باہر بین الاقوامی عسکری رابطے کا اہم آغاز سمجھا جاتا ہے۔
MCQ 7غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
غزوہ موتہ میں حضرت زیدؓ کی شہادت کے بعد کس نے آنحضرت ﷺ کا دیا ہوا جھنڈا پکڑا اور نوّے زخموں کے ساتھ شہید ہوئے؟
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ
حضرت خالد بن ولیدؓ
حضرت عبداللہ بن رواحہؓ
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerA — حضرت جعفر بن ابی طالبؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت جعفر بن ابی طالبؓ۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ حبشہ کے مہاجرین کے قائدانہ چہروں میں سے تھے۔ خیبر کے زمانے میں ان کی حبشہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے خوشی کا اظہار کیا؛ وہ بعد میں غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ موتہ موجودہ اردن کے علاقے میں واقع تھا۔ اس مہم کا پس منظر رسول اللہ ﷺ کے سفیر حارث بن عمیر الازدی کے قتل سے جوڑا جاتا ہے، جو اس زمانے کے سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے پرچم سنبھالے رکھا اور شدید زخموں کے ساتھ شہید ہوئے۔ روایات میں ان کے دونوں ہاتھ کٹنے کے بعد جنت میں دو پروں کی بشارت کی وجہ سے 'جعفر طیار' یا 'ذوالجناحین' کا لقب مشہور ہوا۔ غزوۂ موتہ 8 ہجری میں شمالی عرب/شام کی سرحدی فضا میں بازنطینی اثر کے تحت موجود قوتوں کے مقابل پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور قیادت کی ترتیب پہلے ہی مقرر کی: زید بن حارثہؓ، پھر جعفر بن ابی طالبؓ، پھر عبداللہ بن رواحہؓ۔ تینوں کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو منظم انداز میں واپس نکالا، جس پر انہیں 'سیف اللہ' کہا گیا۔ یہ معرکہ اسلامی ریاست کے عرب سے باہر بین الاقوامی عسکری رابطے کا اہم آغاز سمجھا جاتا ہے۔
MCQ 8غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
آنحضرت ﷺ نے معاہدہ حدیبیہ پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھنے کو کہا لیکن کس نے اصرار کیا کہ باسمک اللہم لکھا جائے اور اس کی رائے مان لی گئی؟
سہیل ابن عمرو
ابوسفیان
حسن ابن عدی
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerA — سہیل ابن عمرو
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: سہیل ابن عمرو۔ سہیل بن عمرو قریش کا ماہر خطیب و نمائندہ تھا۔ اس کا مذاکرات کے لیے آنا اس بات کی علامت تھا کہ قریش معاہدہ طے کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں؛ اسی کے ساتھ حدیبیہ کی شرائط تحریر ہوئیں۔ حدیبیہ کی بڑی شرائط میں اس سال عمرہ کیے بغیر واپسی، اگلے سال تین دن کے عمرے کی اجازت، دس سالہ جنگ بندی اور قبائل کو کسی بھی فریق کے اتحاد میں شامل ہونے کی آزادی شامل تھی۔ معاہدے کی تحریر میں قریش نے 'بسم اللہ الرحمن الرحیم' کے بجائے عرب کی معروف قدیم عبارت 'باسمک اللہم' پر اصرار کیا اور 'محمد رسول اللہ' کے بجائے 'محمد بن عبداللہ' لکھنے کا مطالبہ کیا؛ رسول اللہ ﷺ نے امن کی خاطر ان رسمی نکات پر لچک دکھائی۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 9غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
حدیبیہ کا معاہدہ لکھے جانے کے دوران سہیل بن عمرو کا کون سا بیٹا اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے پاس آیا لیکن مسلمانوں نے معاہدہ حدیبیہ کے تحت اسے قریش کے پاس واپس بھیج دیا؟
ابوجندل ابن سہیلؓ
عثمان بن سہیلؓ
اسامہ ابن سہیلؓ
خراش ابن سہیلؓ
Correct answerA — ابوجندل ابن سہیلؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: ابوجندل ابن سہیلؓ۔ سہیل بن عمرو قریش کا ماہر خطیب و نمائندہ تھا۔ اس کا مذاکرات کے لیے آنا اس بات کی علامت تھا کہ قریش معاہدہ طے کرنے پر آمادہ ہو چکے ہیں؛ اسی کے ساتھ حدیبیہ کی شرائط تحریر ہوئیں۔ ابو جندل بن سہیلؓ زنجیروں میں مسلمانوں کے پاس پہنچے، مگر معاہدے کی شرط نافذ ہو چکی تھی۔ انہیں واپس کرنا صحابہ کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، لیکن اس واقعے نے معاہداتی پابندی اور دور اندیش قیادت کی عملی مثال پیش کی۔ حدیبیہ کی بڑی شرائط میں اس سال عمرہ کیے بغیر واپسی، اگلے سال تین دن کے عمرے کی اجازت، دس سالہ جنگ بندی اور قبائل کو کسی بھی فریق کے اتحاد میں شامل ہونے کی آزادی شامل تھی۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 10غزوہ حنین سے آخری غزوہ تبوک تک
غزوہ حنین میں مسلمانوں کو کتنے اونٹ مال غنیمت کے طور پر حاصل ہوئے؟
22,000
23,000
24,000
25,000
Correct answerA — 22,000
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 22,000۔ حنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی تھی جہاں ہوازن و ثقیف نے راستے کی بلندیوں میں چھپ کر اچانک تیراندازی کی۔ ابتدائی بھگدڑ کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدان نہیں چھوڑا اور صحابہ کو دوبارہ جمع کر کے جنگ کا رخ بدل دیا۔ فتح مکہ کے تقریباً دس ہزار مجاہدین کے ساتھ مکہ کے قریب دو ہزار نو مسلم بھی شریک ہوئے، جس سے مجموعی تعداد تقریباً بارہ ہزار بنی۔ قرآن 9:25 میں حنین کے موقع پر کثرتِ تعداد پر عارضی اعتماد سے سبق لینے کا ذکر ہے۔ غزوۂ حنین فتح مکہ کے فوراً بعد 8 ہجری میں ہوازن اور ثقیف کے اتحاد کے خلاف پیش آیا۔ مسلمانوں کی تعداد تقریباً بارہ ہزار تھی، مگر وادی کے تنگ راستے میں اچانک حملے سے ابتدائی انتشار پیدا ہوا۔ رسول اللہ ﷺ چند ثابت قدم صحابہ کے ساتھ اپنی جگہ قائم رہے، پھر لشکر دوبارہ منظم ہوا اور فتح حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ واضح کرتا ہے کہ عددی برتری کامیابی کی ضمانت نہیں؛ نظم، قیادت اور ثابت قدمی بنیادی عوامل ہیں۔ اہم وضاحت: حنین کے مالِ غنیمت کے مشہور اعداد میں تقریباً 24,000 اونٹ، 40,000 بکریاں اور 6,000 قیدی آتے ہیں؛ 22,000 اونٹ والی کلید قابلِ نظرثانی ہے۔