Read each question, consider the options, then reveal the correct answer and explanation.
100 MCQs10 per page5 of 10
MCQ 41غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
غزوہ موتہ کے کتنا عرصہ بعد آنحضرت ﷺ نے اپنی افواج کو مکہ کی طرف روانہ کیا؟
3 ماہ
4 ماہ
5 ماہ
1 ماہ
Correct answerA — 3 ماہ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 3 ماہ۔ موتہ موجودہ اردن کے علاقے میں واقع تھا۔ اس مہم کا پس منظر رسول اللہ ﷺ کے سفیر حارث بن عمیر الازدی کے قتل سے جوڑا جاتا ہے، جو اس زمانے کے سفارتی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ غزوۂ موتہ 8 ہجری میں شمالی عرب/شام کی سرحدی فضا میں بازنطینی اثر کے تحت موجود قوتوں کے مقابل پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ نے تین ہزار کا لشکر بھیجا اور قیادت کی ترتیب پہلے ہی مقرر کی: زید بن حارثہؓ، پھر جعفر بن ابی طالبؓ، پھر عبداللہ بن رواحہؓ۔ تینوں کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوج کو منظم انداز میں واپس نکالا، جس پر انہیں 'سیف اللہ' کہا گیا۔ یہ معرکہ اسلامی ریاست کے عرب سے باہر بین الاقوامی عسکری رابطے کا اہم آغاز سمجھا جاتا ہے۔ اہم وضاحت: موتہ جمادی الاولیٰ 8 ہجری اور فتح مکہ رمضان 8 ہجری میں ہوئی؛ وقفہ تقریباً تین سے چار ماہ بنتا ہے، اس لیے '3 ماہ' تقریبی ہے۔
MCQ 42غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
آنحضرت ﷺ کے کون سے ساتھی بیعت رضوان کے وقت موجود نہ تھے جس پر آنحضرت ﷺ نے ان کی طرف سے اپنا ہاتھ بیعت کے لیے رکھا؟
حضرت عمرؓ
حضرت ابوبکرؓ
حضرت عثمانؓ
حضرت علیؓ
Correct answerC — حضرت عثمانؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت عثمانؓ۔ حضرت عثمانؓ کو مکہ میں قریش سے مذاکرات کے لیے اس لیے بھیجا گیا کہ ان کے بنو امیہ سے مضبوط خاندانی روابط تھے۔ ان کی شہادت کی افواہ نے بیعتِ رضوان کا پس منظر بنایا۔ بیعتِ رضوان ایک درخت کے نیچے لی گئی اور صحابہ نے ثابت قدمی کی بیعت کی۔ قرآن 48:18 نے ان بیعت کرنے والوں پر اللہ کی رضا کا ذکر کیا، جس سے اس بیعت کی عظیم فضیلت واضح ہوتی ہے۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 43غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
حدیبیہ میں حضرت عثمانؓ کے قتل کی افواہ سن کر آنحضرت ﷺ نے ایک درخت کے نیچے اپنے تمام ساتھیوں کو جمع کر کے ان سے بیعت لی۔ تاریخ میں اس بیعت کو کس نام سے یاد کیا جاتا ہے؟
بیعت رضوان
بیعت عثمان
بیعت حدیبیہ
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerA — بیعت رضوان
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: بیعت رضوان۔ حضرت عثمانؓ کو مکہ میں قریش سے مذاکرات کے لیے اس لیے بھیجا گیا کہ ان کے بنو امیہ سے مضبوط خاندانی روابط تھے۔ ان کی شہادت کی افواہ نے بیعتِ رضوان کا پس منظر بنایا۔ بیعتِ رضوان ایک درخت کے نیچے لی گئی اور صحابہ نے ثابت قدمی کی بیعت کی۔ قرآن 48:18 نے ان بیعت کرنے والوں پر اللہ کی رضا کا ذکر کیا، جس سے اس بیعت کی عظیم فضیلت واضح ہوتی ہے۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 44غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
اہل قریش نے کس کی قیادت میں 200 سواروں کو آنحضرت ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو مکہ داخل ہونے سے روکنے کے لیے بھیجا؟
خالد ابن ولیدؓ
عکرمہ ابن ابوجہل
دونوں
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — دونوں
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: دونوں۔ اس سوال کو متعلقہ واقعے کے سبب، اہم کرداروں، زمانی ترتیب اور نتیجے کے ساتھ جوڑ کر یاد کرنا زیادہ مفید ہے، کیونکہ مدنی دور کے یہ واقعات ایک دوسرے سے مسلسل سیاسی و سماجی تسلسل رکھتے ہیں۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔ اہم وضاحت: صحیح بخاری کی روایت میں خالد بن ولید قریش کے گھڑ سوار دستے کی قیادت میں تھے۔ عکرمہ کی شرکت ممکن ہے، مگر 'دونوں' کو مشترکہ کمانڈر کہنا درست نہیں۔
MCQ 45غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
معاہدہ حدیبیہ کے مطابق کتنے سالوں تک اہل مکہ اور مسلمانوں کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتہ طے پایا؟
5 سال
2 سال
8 سال
10 سال
Correct answerD — 10 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 10 سال۔ حدیبیہ کی بڑی شرائط میں اس سال عمرہ کیے بغیر واپسی، اگلے سال تین دن کے عمرے کی اجازت، دس سالہ جنگ بندی اور قبائل کو کسی بھی فریق کے اتحاد میں شامل ہونے کی آزادی شامل تھی۔ معاہدۂ حدیبیہ میں دس سالہ جنگ بندی طے ہوئی، اگرچہ یہ مدت مکمل نہ ہو سکی کیونکہ تقریباً دو سال بعد بنو بکر اور بنو خزاعہ کے تنازع میں قریش کی مداخلت سے معاہدہ ٹوٹ گیا۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔
MCQ 46غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
ابو بصیر کے پاس آدمیوں کی کتنی تعداد ہوگئی جس کے بعد قریش نے قتل و قتال کا راستہ روکنے کا مشورہ کر دیا؟
100
90
80
70
Correct answerB — 90
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 90۔ قدیم سیرت میں فوجی اعداد مختلف روایتوں میں معمولی فرق کے ساتھ آتے ہیں۔ اہم تصور یہ ہے کہ اتحادی لشکر مسلمانوں سے کئی گنا بڑا تھا، جبکہ مسلمانوں نے خندق اور داخلی دفاع کے ذریعے عددی کمزوری کو حکمتِ عملی سے متوازن کیا۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔ اہم وضاحت: ابو بصیرؓ کے گروہ کی تعداد مختلف روایات میں تقریباً 70 کے قریب بیان ہوتی ہے؛ موجودہ کلید 90 قابلِ نظرثانی ہے۔
MCQ 47غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
حدیبیہ میں سب سے پہلے اہل قریش میں سے کون بنی خزاعہ کے چند ساتھیوں کے ساتھ نبی پاک ﷺ کے پاس آ کر اسلام لے آیا؟
بدیل ابن ورقاء
حذیفہ ابن وقید
اسامہ ابن ورقاء
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerA — بدیل ابن ورقاء
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: بدیل ابن ورقاء۔ بدیل بن ورقاء خزاعی نے مسلمانوں کے پرامن عمرہ کے ارادے کو دیکھا اور قریش تک یہ پیغام پہنچایا۔ خزاعہ کے قریش اور مسلمانوں دونوں سے پرانے قبائلی روابط تھے، اس لیے وہ ثالثی میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔ اہم وضاحت: بدیل بن ورقاء خزاعی مذاکراتی واسطہ تھا؛ 'اسی وقت اسلام لے آیا' والی عبارت معروف حدیبیہ روایت سے ثابت نہیں۔
MCQ 48غزوہ خندق سے صلح حدیبیہ تک
ہجرت کے کتنے سال بعد آپ ﷺ نے خواب میں خانہ کعبہ کو دیکھا کہ اس میں محفوظ اور بغیر کسی خوف کے داخل ہوئے ہیں؟
5 سال
6 سال
7 سال
8 سال
Correct answerB — 6 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 6 سال۔ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں صحابہ کے ساتھ امن سے مسجد الحرام میں داخل ہونے کا منظر دیکھا۔ قرآن 48:27 نے اس رؤیا کی سچائی کی تصدیق کی؛ اس کی تکمیل اگلے سال عمرۃ القضاء میں ہوئی۔ صلح حدیبیہ 6 ہجری میں اس وقت ہوئی جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ جنگ کے ارادے کے بغیر عمرہ کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ قریش نے داخلہ روک دیا، طویل مذاکرات ہوئے، بیعتِ رضوان ہوئی اور پھر دس سالہ جنگ بندی سمیت متعدد شرائط پر معاہدہ طے پایا۔ بظاہر بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوئیں، لیکن سورۃ الفتح نے اسے 'فتح مبین' قرار دیا؛ امن کے ماحول نے دعوت، سفارت اور قبائلی روابط کے تیز پھیلاؤ کی راہ کھولی۔ اہم وضاحت: خواب 6 ہجری میں دیکھا گیا، یعنی ہجرت کے تقریباً چھ سال بعد؛ اس کی تکمیل اسی سال مکہ میں داخلے سے نہیں بلکہ اگلے سال عمرۃ القضاء میں ہوئی۔
MCQ 49غزوہ خیبر سے فتح مکہ تک
فتح خیبر کے موقع پر آنحضرت ﷺ کے کون سے رشتہ دار حبشہ سے 14 سال کے عرصے کے بعد واپس آئے؟
حضرت عباسؓ
حضرت حمزہؓ
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ
ان میں سے کوئی نہیں
Correct answerC — حضرت جعفر بن ابی طالبؓ
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: حضرت جعفر بن ابی طالبؓ۔ خیبر مدینہ کے شمال میں ایک زرخیز، قلعہ بند نخلستانی علاقہ تھا۔ اس کے مختلف قلعوں—جیسے ناعم، نطاۃ، قموص، وطیح اور سلالم—کی وجہ سے جنگ مرحلہ وار محاصروں اور فتوحات کی صورت میں آگے بڑھی۔ حضرت جعفر بن ابی طالبؓ حبشہ کے مہاجرین کے قائدانہ چہروں میں سے تھے۔ خیبر کے زمانے میں ان کی حبشہ سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے خوشی کا اظہار کیا؛ وہ بعد میں غزوۂ موتہ میں شہید ہوئے۔ غزوۂ خیبر 7 ہجری میں شمالی حجاز کے مضبوط قلعہ بند علاقے کے خلاف پیش آیا۔ خیبر زرعی دولت، قلعوں اور مدینہ سے شام جانے والے راستوں کے اعتبار سے اہم تھا۔ فتح کے بعد زمین یہودی کاشت کاروں کے پاس اس شرط پر رہنے دی گئی کہ پیداوار کا ایک حصہ اسلامی ریاست کو دیا جائے؛ اس انتظام سے جنگ کے بعد معاشی نظم اور زمین کے انتظام کا ایک عملی نمونہ سامنے آیا۔
MCQ 50ازواج مطہرات
وصال کے وقت حضرت خدیجہؓ کی عمر مبارک کیا تھی؟
66 سال
65 سال
64 سال
63 سال
Correct answerB — 65 سال
Explanation
موجودہ جواب کلید کے مطابق درست جواب: 65 سال۔ حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجہ، ابتدائی اسلام کی سب سے بڑی مددگار اور حضرت فاطمہؓ سمیت آپ ﷺ کی اولاد کی والدہ تھیں۔ انہوں نے آغازِ وحی کے مشکل مرحلے میں مالی، جذباتی اور اخلاقی سہارا دیا، اس لیے سیرت میں ان کا مقام غیر معمولی ہے۔ وفات کے سال، عمر اور نمازِ جنازہ جیسی تفصیلات سیرت و تراجم کی کتابوں سے آتی ہیں؛ بعض اعداد میں روایتی اختلاف پایا جاتا ہے، اس لیے زمانی ترتیب کو بنیادی واقعات کے ساتھ جوڑ کر یاد کریں۔ قدیم سیرت میں عمر کے اعداد عموماً نسبی و تاریخی روایات سے اخذ ہوتے ہیں؛ مختلف تقاویم اور روایات کی وجہ سے بعض شخصیات کی صحیح عمر میں اختلاف ملتا ہے۔ اہم وضاحت: حضرت خدیجہؓ کی وفات کی عمر 65 سال مشہور حساب کے مطابق ہے، لیکن چونکہ عمرِ نکاح کے بارے میں اختلاف ہے اس لیے یہ عدد بھی قطعی نہیں۔